Listed Price: Rs. 200, US $ 18
Our Price: Rs. 120
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 96

Year: 2013

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-39-1

Publisher: Al-Fath Publications

قیامِ پاکستان پر

ایک محنت کش کا روزنامچہ

۲۷۔ جولائی ۱۹۴۶ء تا ۳۱۔ اگست ۱۹۴۸ء

(اضافوں اور تصحیحات کے ساتھ)

تحریر
سیّد بشیر حسین بخاری
مزدور ریلوے ورکشاپ، لاہور

تالیف و تحقیق 
ڈاکٹر گوہر نوشاہی

Qiyam e Pakistan per Aik Mehnat-kash ka Roaz-naamcha

by: Syed Bashir Hussain Bukhari

Compliled by: Dr. Gauhar Naushahi

قیامِ پاکستان کے موضوع پر دستاویزات کی تلاش، جمع آوری اور اُن کی تدوین و تحقیق ہماری ایک اہم قومی ضرورت ہے۔ پاکستان کے جشن طلائی نے ہمارے اندر اِس ضرورت کا احساس پہلے سے زیادہ بیدار کر دیا ہے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے متعدد ماخذ، جنہیں ہماری قومی تاریخ کے دھارے میں ہونا چاہیے تھا، اُن میں سے اکثر ابھی تک پردۂ گمنامی میں ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں کے وہ اُمور اور مقامات جو تحریک پاکستان کے دوران سرفروشانِ تحریک کا مرکز و محور تھے، آج ہماری لاعلمی کی دھند میں چھپے ہوئے ہیں۔ برصغیر کے ہر شہر اور ہر قریے میں اس تاریخ ساز داستان کے اوراق بکھرے ہوئے ہیں، جن کی شیرازہ بندی ہمارا قومی فریضہ ہے۔ زیرِ نظر کتاب بھی انہیں دستاویزات میں سے ایک ہے جسے پردۂ گمنامی سے نکال کر منظرِ عام پر لایا جا رہا ہے۔ یہ کتاب ۲۷! جولائی ۱۹۴۶ء سے ۳۱! اگست ۱۹۴۸ء تک لکھے جانے والے ایک روزنامچے کا خلاصہ ہے جس میں قیامِ پاکستان کے دوران رونما ہونے والے واقعات کو قومی جوش اور جذبے سے لبریز ایک عام انسان کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اس روزنامچے کے مصنف ایک ریلوے مزدور تھے، جنہیں اپنے روزمرّہ مشاغل کے بارے میں یادداشتیں لکھنے کا شوق تھا۔ اس ضمن میں انہوں نے تحریک پاکستان کی کچھ چشم دید تصاویر اپنے لفظوں میں بنائی ہیں جو تصنع، بناوٹ اور رنگ آمیزی سے پاک ہیں۔ اس اعتبار سے یہ روزنامچہ معاشرے کے ایک عام فرد کے قومی احساسات و جذبات کا آئینہ دار ہے۔

یہ ایک ایسا جھروکا، ایک ایسا روزن ہے جس سے ہم تحریک پاکستان کو عوام الناس کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ تحریک پاکستان پر اہلِ دانش، مورّخین، محققین اور صاحبان فضل و کمال کی تحریریں تاریخ کا حصہ بن رہی ہیں۔ اکابرین کی تحریروں اور علمی آثار کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلّم، لیکن اس منظر نامے کے ایک غریب اور ناشناختہ ناظر و شاہد سےّد بشیر حسین بخاری کے تاثرات شائع کرنے کا اعزازپہلی مرتبہ مقتدرہ قومی زبان کو حاصل ہو رہا ہے۔ یقین کیا جانا چاہیے کہ تحریک پاکستان کے ایک عام اور غیرمعروف مجاہد کے یہ تاثرات بھی تاریخ پاکستان کا حصہ بن جائیں گے۔

ڈاکٹر گوہر نوشاہی کے تحقیقی سفر میں اس روزنامچے کی دریافت اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس سے تحریک پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے جس محنت اور لگن سے اس روزنامچے کے بارے میں تحقیقی مواد جمع کیا ہے اور اِس پر مفید حواشی لکھے ہیں، وہ ان کے علمی مزاج کا خاصہ ہے۔

امید ہے یہ کتاب تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم اور عام قارئین کے لیے دلچسپ اور معلومات افزا ہو گی۔

افتخار عارف

 

Related Titles