Listed Price: Rs. 390, US $ 36
Our Price: Rs. 250
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 230

Year: 2015

Edition: Second

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-53-7

Publisher: Al-Fath Publications

آسان عروض اور نکاتِ شاعری

سرور عالم راز سرور

Aasan Arooz aur Nuqaat e Shairee, Sarvar Aalam Raz Sarvar

علمِ عروض پچھلے بارہ سو سال سے عربی، فارسی، اُردو اور مسلمانوں کی دیگر کئی زبانوں میں علم الاوزان کی حیثیت سے مروّج و مستعمل رہا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں اصطلاحاتِ شعر، اُردو شاعری کے اُصول اور غزل، عروض کی بنیادی باتیں، بحر، زحافات اور افاعیل، تقطیع اور اس کے اصول، بحریں، نکاتِ شاعری، صوتی قافیے، فارسی ہندوستانی تراکیب اور شترگربگی کے حوالے سے اہم قواعد اور نکات کو نہایت سادہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ مثالوں کی کثرت نے مشکل مقامات کی وضاحت اور تفہیم میں مدد دی ہے۔ علمِ عروض کے شائقین اور شعر و ادب کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ کتاب ایک گراں ارز تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔

سرور عالم رازؔ صاحب برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں مگر اُن کا دل مشرق میں بستا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشینوں کے ہنگاموں اور تسخیرِ کائنات کے نعروں کی گونج سے بے نیاز وہ مشرقی شعر و ادب اور علوم و فنون کے ذکر سے اپنی دنیا آباد کیے بیٹھے ہیں۔ عروض جیسے مشکل، پیچیدہ اور دقیق علم پر اُن کی تازہ کتاب ان کی اِسی مشرق آشنائی کا اظہاریہ ہے۔

 

 


Table of Contents | فہرست

Table of Contents is in PDF Format.
 

 


Preface | تقریبِ ملاقات

سرور عالم رازؔ صاحب برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں مگر اُن کا دل مشرق میں بستا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشینوں کے ہنگاموں اور تسخیرِ کائنات کے نعروں کی گونج سے بے نیاز وہ مشرقی شعر و ادب اور علوم و فنون کے ذکر سے اپنی دنیا آباد کیے بیٹھے ہیں۔ حضرت رازؔ چاندپوری کے فیضِ تربیت نے انہیں جن علوم و فنون کے اسرار و رموز سے آگاہی عطا کی تھی، ان کے ساتھ اب تک وہ پوری طرح وابستہ و پیوستہ ہیں۔ عروض جیسے مشکل، پیچیدہ اور دقیق علم پر اُن کی تازہ کتاب ان کی اِسی مشرق آشنائی کا اظہاریہ ہے۔

علمِ عروض پچھلے بارہ سو سال سے عربی، فارسی، اُردو اور مسلمانوں کی دیگر کئی زبانوں میں علم الاوزان کی حیثیت سے مروّج و مستعمل رہا ہے۔ دنیا میں باقی نظاموں کی نسبت یہ زیادہ سائنٹفک اور مکمل نظام الاوزان ہے، تاہم پچھلے ڈیڑھ سو سال کے عرصے میں اس کی پیچیدگی، بحور کے عجیب و غریب ناموں، زحافات کی گراں باری اور قواعد کی سختی ہدفِ تنقید و اعتراض رہی ہے۔ اسے انگریزی اور ہندی کے نظام الاوزان کے ساتھ خلط ملط کرنے کے منصوبے بھی بنے اور اس کی تسہیل کے نام پر کئی مضحکہ خیز کاوشیں بھی ہوئیں، مگر عروض نے اپنے وجود اور تشخص کے دائرے کو قائم رکھ کر ایک مستحکم، توانا اور مکمل علم ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ مقامِ شکر ہے کہ سرور عالم راز صاحب سرورؔ کی یہ کتاب نہ تو کسی نئے عروض کی دعویٰ دار ہے اور نہ اس میں عروض کی صورت کو مسخ کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ مشرقی علوم و فنون کے گہرے عرفان کے باعث ہی رازؔ صاحب اس نتیجے تک پہنچے:

میرے خیال و یقین میں علمِ عروض اپنی موجودہ صورت و تفصیلات میں ہماری شعری ضروریات کے لیے بہت کافی ہے اور اس کو شکست و ریخت سے مجروح کرنے کے بجائے عام فہم اور آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ علم قائم رہے اور لوگ اس سے مستفید ہوتے رہیں۔

زیرِ نظر کتاب سادہ زبان اور عام فہم انداز میں قلم بند کی گئی ہے، اسی لیے اس میں دلچسپی کی فضا شروع سے آخر تک قائم رہتی ہے۔ اصطلاحاتِ شعر، اُردو شاعری کے اُصول اور غزل، عروض کی بنیادی باتیں، بحر، زحافات اور افاعیل، تقطیع اور اس کے اصول، بحریں، نکاتِ شاعری، صوتی قافیے، فارسی ہندوستانی تراکیب اور شترگربگی کے حوالے سے اہم قواعد اور نکات کو نہایت سادہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ مثالوں کی کثرت نے مشکل مقامات کی وضاحت اور تفہیم میں مدد دی ہے۔ علمِ عروض کے شائقین اور شعر و ادب کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ کتاب ایک گراں ارز تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد

Related Titles