Upcoming Title
Expected in
Aug. 2013
 
 
 

Pages:

Year:

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN:

Publisher: Al-Fath Publications

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

رشید امجد

Aashqui Sabar Talab aur Tamanna Baytaab, Rasheed Amjad

معروف معنوں میں یہ خود نوشت نہیں بلکہ یادیں، خیالات، تجزیے اور مختلف اشیاکے بارے میں میرے نقطہ ہائے نظر ہیں، جن میں میری نجی زندگی اور میرا عہد دونوں شامل ہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا، سنااور محسوس کیا اسے بغیر کسی تعصب کے بیان کر دیا ہے۔ اس میں زمانی ترتیب نہیں، جس طرح کوئی ذکر آیا ہے اور بات میں سے بات نکلی ہے، میںنے اُسے اسی طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ خود میری زندگی ایک تمنا بے تاب ہے، عاشقی کے لئے جو صبرطلبی چاہئے، وہ مجھ میں نہیں۔ 

ان یادداشتوں میں ذاتی احوال کے ساتھ ساتھ بعض ایسی بحثیں بھی شامل ہیں جو کسی حد تک مضمون بن گئی ہیں۔ اسی طرح بعض تجزیے خاصے پھیل گئے ہیں، لیکن یہ سب میری زندگی کا حصہ ہیں۔ میں ان سب میں کسی نہ کسی حوالے سے موجود ہوں۔ ان سے میرا اپنانقطئہ نظر بھی واضح ہوتا ہے اور میری پوری نسل کے ادبی و فکری مزاج کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے، نیز یہ کہ میرے عہد کی ایک تصویر بنتی ہے، اچھی بری جو کچھ بھی ہے، سوہے۔ میری نسل کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے زندگی کا بڑا حصہ مارشل لاء میں گزارا۔ میں اٹھارہ سال کا تھا تو پہلا مارشل لاء لگا۔ چالیس کی دہلیز پر قدم رکھاتو دوسرا مارشل لاء لگ چکا تھااور ساٹھ کے دائرے میں پاؤں رکھ رہا تھا تو ملک تیسرے مارشل لاء کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ 

پہلے ایڈیشن میں کمپوزر کی لاپرواہی کی وجہ سے اتنی اغلاط دَر آئیں کہ تحریر کا تسلسل ہی ٹوٹ گیا اور کئی حصے کمپیوٹر ہی میں رہ گئے۔ اس ایڈیشن میں یہ سارے صفحات شامل ہیں اور کئی اضافے بھی کئے گئے ہیں۔ عزیزہ صوبیہ سلیم، جو یونیورسٹی میں میری رفیق کار ہیں، کا خصوصی شکریہ کہ انہوں نے مسوّدے کو کئی بار پڑھا اور غلطیوں سے پاک کیا۔

اس کتاب کے لئے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیںکی گئی تھی، جس جس طرح یاد آیا لکھ لیا، جس کی وجہ سے کئی واقعات کا پہلے ایڈیشن میں تذکرہ نہیں ہو سکا۔ اس ایڈیشن میں کئی چیزیں نئی ہیں جو نہ صرف قاری کے لئے دلچسپی کا سبب ہوں گی بلکہ پاکستان کی تاریخ کے بعض اہم پہلوؤں کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔ 

تمنا بے تاب کی یادداشتیں تقریباً سنہ دو ہزار تک تھیں، اس کے بعد کے گیارہ بارہ سال نہ صرف میری اپنی زندگی میں بلکہ پاکستان کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ پہلے حصے کے مقابلے میں دوسرا حصہ قدرے خشک اور تلخ بھی ہے لیکن یہ تلخی ان گیارہ بارہ سالوں کا مقدر ہے۔ مشرف دور کے خاتمے کے بعد جو نیا دَور شروع ہوا اُس کے حیلے بھی پرویزی ہیں اور کوہکن بے چارے کی حالت وہی ہے جو تھی۔ میں نے تو وہی کچھ لکھا ہے جسے دیکھا، برتا اور محسوس کیا، سو اِس حصے کا اچھا بُرا دراصل اس دور کا اچھا بُرا ہے۔ برادرِ عزیز ڈاکٹر طیّب منیر کا خصوصی شکریہ کہ انہوں نے سارے مسودے کو بہ نظرِ غائر دیکھا اور کئی اچھے مشورے دئیے۔

رشید امجد
 

 
 

 

ڈاکٹر رشید امجد
کی دیگر کتب
 

Related Titles