Listed Price: Rs. 170, US $ 12
Our Price: Rs. 105
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 167

Year: 2010

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-05-6

Publisher: Al-Fath Publications

فلسفۂ خیر

بوتھیئس     مترجم:  پروفیسر محمد بشیر

Falsafa e Khair, Boethius, trans.: Prof. Muhammad Bashir

(translation of The Consolation of Philosophy)

بوتھیئس، جو رومی تہذیب کی آخری شگفتگی کی نمائندگی کرتا ہے، ایک ایسا شخص تھا جو ہمارے عہد کے لیے بہت اہم ہے۔ The Consolation of Philosophy ۔۔۔۵۲۴ عیسوی میں لاطینی زبان میں لکھی گئی۔ ایک ہزار سے زائد برسوں کے دوران یہ کتاب عہد بہ عہد قبولیت کی سند سے مشرف رہی، اور آج بھی فکر و فلسفہ کی اقلیم میں اسے پذیرائی حاصل ہے۔ یہ اُس وقت سے نشاۃ ثانیہ تک مغربی یورپ میں مقبول ترین اور سب سے زیادہ موثر کتابوں میں سے تھی۔ یہ کتاب تمام تاریک زمانوں میں پڑھی گئی اور اِس نے قدیم دنیا کی پاکیزہ وراثت کو خوش آئند زمانوں کے لیے منتقل کیا۔

فلسفۂ خیر اخلاقی فلسفہ کی کتاب ہے۔ یہ انسانوں کو خیراعلیٰ کی دریافت اور اُس سے لطف اندوز ہونے کی طرف لے جاتی ہے۔ کتاب کا موضوع انسانی مسرّت ہے۔ اس ضمن میں یہ بتایا گیا ہے کہ مصائب اور مایوسی،جو انسانی زندگی کے بیشتر حصے پر غالب رہتے ہیں، میں حصولِ مسرّت کسی طرح ممکن ہے۔ یہ کتاب فلسفے کی تاریخ میں اہم نصاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔

 

 


Table of Contents | فہرست

Table of Contents is in PDF Format.
 

 


Translator's Note | عرضِ مترجم

عہدِ وسطیٰ میں تحریر کی گئی ایک نادر کتاب The Consolations of Philosophy کا اُردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔ یہ کتاب ایک نامور فلسفی بوتھیئس نے ۵۲۴ عیسوی میں لاطینی زبان میں لکھی۔ ایک ہزار سے زائد برسوں کے دوران یہ کتاب عہد بہ عہد قبولیت کی سند سے مشرف رہی، اور آج بھی فکر و فلسفہ کی اقلیم میں اسے پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے کئی زبانوں میں تراجم کیے گئے ہیں۔ بارہا مغرب کے نامور فلسفیوں، دانش وروں اور ادیبوں نے اسے انگریزی اور دیگر زبانوں میں منتقل کیا۔ یہ اُردو ترجمہ، جو اِس وقت آپ کے پیشِ نظر ہے، امریکہ کے انگریزی ادب کے پروفیسر رچرڈ گرین کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے۔ اِس کتاب کے عنوان کے بارے میں عرضداشت یہ ہے کہ انگریزی زبان کا براہِ راست ترجمہ فلسفہ کی تسلیاں ہی ہونا چاہیے تھا، لیکن ترجمہ شدہ عنوان بعض اوقات قدرے تصرف یا بدلے ہوئے اظہار و اُسلوب کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا مرکزی موضوع افلاطون کی مابعد الطبیعیات اور اخلاقیات پر مشتمل ہے اور افلاطون کے خیال میں اعلیٰ ترین تصور (Idea) تصورِ خیر ہے، لہٰذا کتاب کے اس اُردو ترجمے کا نام فلسفۂ خیر موزوں سمجھا گیا ہے۔ 

یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کا عہد تو سائنس اور ٹیکنالوجی کا عہد ہے، عصری تقاضے کچھ اور ہی ہیں، اور انسانی فکر کے پرانے رویے ماضی کی دُھول میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ تو پھر ایک قدیم عہد کی ایسی کتاب کے ترجمے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے، جس کا فلسفہ صدیوں پہلے کے نظریات پر مشتمل ہو؟

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہم سائنسی عہد میں رہ رہے ہیں۔ سائنسی شعور کا بڑھتا ہوا تجسّس ہمیں امکانات کے نئے منطقوں سے روشناس کرا رہا ہے۔ سائنسی فتوحات کا ثمر دنیا کے گوشے گوشے اور عام سے عام آدمی تک پہنچ رہا ہے۔ سائنس سے حاصل شدہ ٹیکنالوجی ہماری روزمرّہ زندگی میں جوہری تبدیلیاں لا چکی ہے۔ پرانی دنیا کے مقابلے میں آج کی دنیا اپنی ظاہری ہیئت میں یکسر بدل چکی ہے۔ جدید علم اور معلومات کے اِس دَور میں انسانی ذہن کی جہتیں نئے سے نئے اُفق کی تلاش میں کھلتی جا رہی ہیں۔ نیا انسان نئی صورتِ حال کے مسائل سے بھی بے شک دوچار بھی ہے، لیکن اسے بے شمار فوائد، راحتیں، آسائشیں اور تفریحات بھی میسر ہیں۔ نیز وہ ایک وسعت گیر اور دل پذیر دنیا کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ ہم تو نہ صرف سائنس کے بیحد حامی اور مداح ہیں، بلکہ سائنسی طرزِ فکر پر بھی پختہ یقین رکھتے ہیں۔ 

بہ ایں ہمہ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ سائنس کا اقدار کی دنیا اور انسان کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ مشاہدہ و تجربہ اور دلیل و منطق سے خارج کی ماہیت دریافت کرنے پر خود کو مامور رکھتی ہے۔ اقدار کی راہوں پر سائنس کا گزر نہیں ہوتا۔ شاید اُس کی دریافتہ معلومات کسی طور سے انسانی باطن پر اثرانداز ہوتی ہوں، لیکن مقصدِ حیات، محبت، خیر، عدل، سکونِ قلب، حسن، مسرّت اور دیگر اعلیٰ انسانی اقدار کی نوعیت و کیفیت، ا سباب اور اُن کے حصول کا سراغ سائنس کی کسی لیبارٹری میں نہیں لگایا جا سکتا۔ وقت اور انسانی وجود کے رشتے کے اپنے اسرار ہیں۔ سائنس کی فراہم کردہ سہولیات ہمیں جسم اور اُس کے متعلقات کی آسودگی تو مہیا کرتی ہیں مگر روح کا مقام و قیام ہماری داخلی دنیا کے غیب آشنا اور پُراسرار منطقوں میں ہے۔ روح کے معاملات و مآخذات کی جزوی تفسیر مذہب، فلسفہ، تاریخ، ادبیاتِ عالیہ اور جملہ جمالیاتی علوم کے توسط سے ہی ممکن ہے۔ 

جہاں تک قدیم زمانے کا تعلق ہے تو اِس سلسلے میں عرض ہے کہ اعلیٰ انسانی اقدار قدیم اور جدید زمانوں میں یکساں رہی ہیں۔ زمانہ اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ بنیادی انسانی اقدار تبدیل نہیں ہوتیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ زمانہ اور حالات کی تبدیلی سے اقدار کی تعبیرات، تشریحات اور اظہارات میں زاوےۂ نظر اور طرزِ اظہار کے حوالے سے تبدیلی رونما ہوتی ہے، جسے زمانے کے تقاضوں کے پیشِ نظر اور نئی صورتِ حال سے ہم آہنگی کی خاطر ضرور تسلیم کیا جانا چاہیے۔ 

بے شک سائنس کی فتوحات حیران کن ہیں، لیکن آج کی صورتِ حال کچھ زیادہ تسلی بخش بھی نہیں۔ معرکۂ خیر و شر زور شور سے جاری ہے۔ زور و زَر کی ہوس انسان کو ناانسان بنانے میں مصروف ہے۔ کل کا شہر آشوب آج کا دہر آشوب بن گیا ہے۔ بسااوقات یوں لگتا ہے کہ دنیا خطرے میں ہے۔ ایسی پُرخطر دنیا میں جن اقدار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ امن، سکون، احترامِ آدمی، وسعتِ فکر و نظر اور احساسِ انسانیت جیسی اقدار ہیں۔ 

یوں تو روزمرّہ زندگی میں بھی، مگر خصوصاً مشکل حالات میں انسان کے کردار کا حُسن ہی یہی ہے کہ وہ ضبط و تحمل، ہمت و حوصلہ، فہم و فراست، فکر و دانش اور ہوشمندی کا دامن نہ چھوڑے۔ مشکل حالات سے بچ نکلنے کا راستہ ہی یہی ہے اور اسی راستے سے عام حالات میںنئی راہیں نکلتی ہیں۔ حقیقی زندگی کی بقا انسانی اقدار کے دوام سے مشروط ہے۔ 

محمد بشیر

 

 


Index | اشاریہ
Index is in PDF Format.
پروفیسر محمد بشیر
کی دیگر کتب

 

Related Titles