Listed Price: Rs. 400, US $ 30
Our Price: Rs. 240
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 192

Year: 2011

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-16-2

Publisher: Al-Fath Publications

گوھر یکتا

احمد یار خان یکتا خوشابی

عارف نوشاہی

Gauhar -e Yakta, Arif Naushahi

احمد یار خان خوشابی متخلّص بہ یکتا، فارسی زبان کے پختہ کار نثر نویس اور خوش گفتار شاعر تھے۔ اِس کتاب میں احمد یار خان یکتا خوشابی کے احوال و آثار، اور اُن سے منسوب دیوان کی اصلیت سے متعلق مقالہ جات پیش کیے گئے ہیں۔ اُن کی نظم و نثر کا انتخاب بھی کتاب کا حصہ ہے۔ مختلف اشاریے بھی کتاب میں شامل ہیں۔ یکتا خوشابی کے دیوان سے چند صفحات کے عکس بھی شاملِ کتاب ہیں۔

 

 


Table of Contents | فہرست

Table of Contents is in PDF Format.
 

 


Preface | پیش لفظ

فارسی زبان کے پختہ کار نثر نویس اور خوش گفتار شاعر،احمد یار خان خوشابی متخلّص بہ یکتا (ولادت: تقریباً ۱۰۸۸ھ /۱۶۷۷ء ؛وفات:۲۳ جمادی الاوّل۱۱۴۷ھ/۱۷۳۴ء) کے بارے میں یہ ناچیز کتاب پیش کرنے کی جسارت ہرگز نہ کرتا،اگر ہماری علمی دنیا میںایک حادثہ رونما نہ ہوا ہوتا!

یہ مئی ۲۰۱۰ء کی بات ہے کہ وطن عزیز کے موقّر تدریسی اور تحقیقی ادارے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی ،لاہورسے ہمارے کچھ عزیز دوستوں کی مشترکہ کوشش سے ایک کتاب شایع ہوئی،نا م تھا دیوان یکتا خوشابی۔پہلی نظر میں تو اسے احمد یار خان یکتا کا دیوان ہی سمجھا گیا لیکن جب غور سے پڑھنا شروع کیا تو شک گذرا کہ پورے دیوان میں کہیں یکتا تخلّص تو آیا نہیں، پھریہ اس کا دیوان کیسے ہوگیا؟اپنا شک رفع کرنے کے لیے ایک بار پھر دیوان پڑھا تو بہت سے اشارات ایسے ملے جن کی بناء پر وہ شک یقین میں بدلنا شروع ہوا ۔جب ان داخلی اشارات کو بیرونی شہادتوں کے ساتھ پرکھا تویقینِ کامل ہواکہ یہ کسی دوسرے احمدیار کا دیوان ہے جسے ہمارے دوستوںنے یکتا کادیوان سمجھ کرمرتّب اور شایع کیا ہے!

یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تو اچنبھے کی بات نہ تھی کہ ہماری ادبی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ،جہاں ہم نام مصنّفوںاور ہم تخلّص شاعروںکی تصانیف ایک دوسرے کی تصانیف سے خلط ملط ہو چکی ہیںاور مرورِزمانہ کے ساتھ سنَد کا درجہ پا چکی ہیں!لیکن لاہور کا واقعہ اس لحاظ سے ناقابل فہم تھا کہ دیوان میں داخلی شواہد اس قدر مبرہن ہیں کہ اسے احمدیارخان یکتا کا کلام قرار دیا ہی نہیںجاسکتا۔ان واضح شہادتوں سے فاضل مرتّبین نے کیسے چشم پوشی کر لی ؟اپنے زیر استعمال نسخہ کی نقل لیتے ، تدوین کرتے اور بار بار پروف پڑھتے ہوئے کیاایک بار بھی اُن کا دھیان ان شواہد کی طرف نہ گیااور غور وفکرنہ کیا؟ایک ناکردہ گناہ کی سزا بے چارے یکتا کوملی کہ اس کے نام سے ایسا دیوان شایع ہو گیاجو اس کے ادبی وقار اور شاعرانہ عظمت کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتا۔

جب دیوان یکتا خوشابی کی مذکورہ اشاعت سے تمام داخلی شواہد جمع ہوگئے اور کچھ خارجی دلائل بھی اسی کے حق میں مل گئے کہ یہ احمد یار خان یکتا کا نہیں بلکہ اس کے ہم نام احمد یار کا دیوانہے جو غالباً اوچ کا رہنے والا ہے اور ۱۲۰۰ھ /۱۷۸۶ء تک ضرور زندہ تھا،تو علمی دیانت کا تقاضا تھا کہ اس معاملے پر قلم اٹھایا جاتا اوریہ معاملہ دوسرے اہلِنظر کے سامنے رکھ کر اس علمی تسامح کو دور کیا جاتا۔چنانچہ میں نے ایک مفصّل مقالہ احمد یار یکتا خوشابی سے منسوب مطبوعہ دیوان کی اصلیّتعنوان سے تیار کیا۔کافی تھا کہ یہی مقالہ کسی رسالے میں چھپوا کرمقصد پورا کرلیا جاتا لیکن اس کی طوالتکے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

پھر خیال گذرا کہ یکتا کے حالات زندگی اور تصانیف پر الگ سے کبھی کوئی جامع تحقیق نہیں ہوئی ہے،بہتر ہو گا کہ اس موضوع پر بھی قلم اٹھایا جائے،چنانچہ یکتا پر دستیاب تمام مآخذ کی مدد سے ایک علیحدہ مضمون احمد یار خان یکتا خوشابی : احوال و آثار لکھا۔ اپنی جگہ پر یہ مقالہ جامع سہی، لیکن اس بات کا بھی احساس ہے کہ جب تک یکتا کا اصل دیوان دستیاب نہیں ہوتا ، اس کی زندگی کے کئی گوشے ہم پر مخفی ہیں۔اس کے دیوان میں ضرور ایسے اشارات ہوسکتے ہیں جو اس کے طرز زندگی،اندازفکر اور معاملات روزمرہ پر روشنی ڈالتے ہوں۔

یکتا کی طبع شدہ دومثنویات سے قطع نظر، اس کا دیگرشعری سرمایہ بہت کم چھپاہے اور اس کی نثر کا تو بالکل ہی کوئی نمونہ اب تک شایع نہیں ہوا تھا،لہذاضروری خیال کیا کہ یکتاکے غیر مطبوعہ کلام اور نثر کا ایک انتخاب بھی تیار کیا جائے تاکہ یکتا کے فن اور فکر کی بہتر تصویر پیش کی جاسکے ۔خوش قسمتی سے مجھے یکتا کی ایک غیر مطبوعہ تصنیف شش فصل کا قلمی نسخہ مل گیا اور اس کی مدد سےیکتاکی نظم اور نثر کے انتخاب پر مشتمل تیسرا مقالہ تیار ہوگیا۔

اب یہ ایک بھلی سی کتاب کا مواد تھا ،سو یہی تینوں مقالات،احمدیار خان یکتا خوشابی پر ایک مستقل کتاب ۔گوہر یکتا ۔کے طور پر یک جا پیش کیے جارہے ہیں۔امید ہے یہ تحریریں، برّصغیرمیں فارسی ادب کی تاریخ پر کچھ نہ کچھ اضافہ سمجھ کر پسند کی جائیں گی اور غلط منسوبات کی تنقیح و تنقید کے حوالے سے مفید واقع ہوں گی۔ 

میں ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی صاحب کا بے حد ممنون ہوں کہ انھوں نے اس کتاب پر تقریظ لکھ کر میری عزّت افزائی فرمائی اور میرے اس موقف کی تایید کی کہ لاہور سے شایع ہونے والا دیوان یکتاخوشابی، حقیت میں احمدیار خان یکتا خوشابی کا دیوان نہیںہے۔ڈاکٹر صاحب کے جدِّبزرگوار حافظ محمود خان شیرانی (۱۸۸۰۔۱۹۴۶ء)کی عمر اسی نوعیت کے غلط ادبی منسوبات اور جعلیات کی تردیدکرتے ، اصلیت سے پردہ اٹھاتے اور حقایق تک راہ نمائی فرماتے گذری تھی۔ڈاکٹر صاحب ،حافظ شیرانی مرحوم کی علمی یادگارہیں،ان کی تایید کو میں معنوی اور روحانی طور پر حافظ شیرانی ہی کی تایید سمجھتا ہوں۔

کتاب کا سرورق میرے ایک ایرانی کرم فرما محمدرضا عمو زادکی نقاشی اور خطاطی کے ہنر کا نمونہ ہے۔جس کے لیے میرے ایک دوسرے ایرانی دوست، حمید رضا قلیچ خانی واسطۂ خیر بنے۔

میں ان تمام مخلص احباب کا شکر گزار ہوں۔

ضروری وضاحت:کتاب میں جہاں جہاں ہجری اور عیسوی سنین ساتھ ساتھ آئے ہیں،وہاں سند ہجری سنین کو حاصل ہے،عیسوی سنین محض مطابقت کے لیے ہیں ۔جہاں صرف عیسوی سال کا ذکر ہے ،وہ اپنی جگہ پر صحیح ہے۔

عارف نوشاہی

 

 


Index | اشاریہ
Index is in PDF Format.
عارف نوشاہی
کی دیگر کتب
Jami

Yaar e Aashna

 

Related Titles