Listed Price: Rs. 200, US $ 18
Our Price: Rs. 120
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 159

Year: 2011

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-14-8

Publisher: Al-Fath Publications

گلزارِ فقر

دیوان غلام محی الدین    تحقیق: ڈاکٹر شفیق انجم

Gulzar e Faqr, Deewan Ghulam Muhaiuddin, complied by: Dr. Shafique Anjum

مثنوی گلزارِ فقر (۱۱۳۹ھ) پنجاب میں اُردو کا ایک اہم حوالہ ہے ۔ اس کی تصنیف کاعہد وہی ہے جب دہلی میں ولیؔ کی آمد کے بعد ریختہ گوئی کا سلسلہ شروع ہوا اور اُردو فارسی کی آمیزش سے ایک نئی بزمِ شعرآراستہ ہوئی۔ اِس مثنوی سے اٹھارویں صدی کے نصف اوّل میں پنجاب میں اُردو زبان کی ساخت کا پتہ چلتاہے۔ گلزارِ فقر کاموضوع تصوف ہے۔ مصنف نے اپنی فارسی و عربی دانی کاسکہ جمانے کی بجائے عام فہم مروّج زبان میں تصوف کے رموز کی عقدہ کشائی کی ہے۔ مثنوی میں حمد بھی ہے، نعت بھی اور غوث الاعظم کی منقبت بھی، لیکن سب کچھ ایک دوسرے میں مدغم ہے، علیحدہ سے عنوانات قائم نہیں کیے گئے۔

ڈاکٹر شفیق انجم اِس اعتبار سے منفرد محقق ہیں کہ انھوں نے پہلی مرتبہ اس مثنوی کا محنت ، لگن اور تحقیقی بصیرت سے مطالعہ کیا ہے اور ایک سے زیادہ قلمی نسخوں کی مدد سے تصحیح متن کاحق ادا کیا ہے۔

 

 


Table of Contents | فہرست

Table of Contents is in PDF Format.

 

 


Preface | پیش لفظ

پاکستان کے مختلف حصوں میں اُردو زبان و ادب کی قدامت ایک ایسا موضوع ہے جس پر تاحال کما حقہٗ تحقیق کا حق ادا نہیں ہوا۔تاریخ ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ دکنی دور سے بہت پہلے پاکستان کے مختلف شہروں میں اُردو زبان کی داغ بیل پڑ چکی تھی۔ محمد بن قاسم کے عہد کی یادگار تاریخ چچ نامہ میں اُردو ، ہندی اور پنجابی کے الفاظ موجود ہیں ۔ غزنوی عہد کے فارسی شعرا فردوسی ، انوری، عسجدی، حکیم سنائی اور مسعود سعد سلمان لاہوری کے کلام میں برصغیر کی زبانوں، بالخصوص پنجابی ، سندھی ، بلوچی اور پشتو کے الفاظ دیکھے جاسکتے ہیں۔غزنوی دور کی عظیم نثری تصنیف تاریخ بیہقی میں ایسے درجنوں الفاظ ہیں جو آج اُردو زبان کا حصہ ہیں۔ مغلیہ دورِ حکومت میں تمام برصغیر اُردو زبان سے آشنا تھا۔ اکبر کے اتالیق بیرم خان کی اُردو کے کچھ نمونے میں نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ سہ ماہی نوادر میں دیے تھے۔ شاہجہان کے زمانے میں رائج اُردو الفاظ حضرت شاہ دولہ گجراتی کے سوانح نگار چراغ بن شاہ مراد کی تصنیف میں محفوظ ہیں۔

میر و سودا کے دور میں سر زمینِ پاکستان پر اُردو زبان و ادب کا معیار بھی پورے برصغیر کے کسی حصے سے کمتر نہیں تھا۔منچر (پنجاب ) کے شاعر اشرف فاروقی کے ریختے، سندھ میں صابرسندھی کا دیوان شوق افزائ اور بلوچستان میں جام درک کا کلام بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ 

پاکستان کے مختلف حصوں میں اُردو ادب کے مخفی خزانوں کا کھوج لگانا ہماری قومی ، علمی اور ادبی ذمے داری ہے۔ ہمارا محقق جب تک اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوتا اُردو ادب کی تاریخ لکھنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اُردو ادب کی کوئی تاریخ بھی جب تک اپنے فطری مسیر کے مطابق اور اصلی مواد کے ذریعے نہیں لکھی جائے گی،قابلِ اعتباراور مستند نہ ہو گی۔افسوس! اب تک اُردو ادب کی کوئی مستند تاریخ منظرِ عام پر نہیں آئی اور اس کی بڑی وجہ پاکستان کے قدیم ادبی ورثے سے بے اعتنائی اور نا واقفیت ہے۔

پاکستان میں اُردو ادب کے قدیم معماروں میں ایک نام دیوان غلام محی الدین میرپوری کا بھی ہے جو پنجاب کی گکھڑ قوم کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔گکھڑ قوم کی کشمیر اور پنجاب کی سرحد پر حکمرانی کی تاریخ کیگوہر نامہ میں محفوظ ہے۔

دیوان غلام محی الدین کی یادگار مثنوی کا نام گلزارِ فقر ہے جس کا ذکر دنیائے ادب کے عظیم محقق حافظ محمود شیرانی نے پنجاب میں اُردو میں کیا ہے۔گلزارِ فقر کا زمانۂ تصنیف ۱۱۳۹ھ مطابق ۱۷۲۶ء ہے۔ یہ مثنوی ولی دکنی کے سال وفات ۱۱۳۴ھ یا ۱۱۳۸ھ کے متصل تصنیف ہوئی ۔اس اعتبار سے دیوان غلام محی الدین کو ولی کا معاصر کہا جا سکتا ہے۔ یہ بات خاص اہمیت کی حامل ہے کہ گلزارِ فقر کی زبان اتنی ہی ترقی یافتہ اور ادبی عناصر کی حامل ہے کہ جتنی ولی کی، بلکہ بعض لسانی خوبیوں کی بنا پر اس سے بہتر ہے۔ ولی کی زبان کے مقابلے میں مقامی محاورے دیوان غلام محی الدین کے ہاں بہت کم ہیں۔

گلزارِ فقر کے قلمی نسخے پاکستان کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ اس مثنوی کے لسانی اور ادبی پہلوؤں پر ابھی تک کوئی شایانِ شان کام نہیں ہوا۔ ڈاکٹر شفیق انجم اس اعتبار سے منفرد محقق ہیں کہ انھوں نے پہلی مرتبہ اس مثنوی کا محنت ، لگن اور تحقیقی بصیرت سے مطالعہ کیا ہے اور ایک سے زیادہ قلمی نسخوں کی مدد سے تصحیح متن کاحق ادا کیا ہے۔

مجھے امید ہے کہ ڈاکٹر شفیق انجم کی تحقیقی کاوش سے اُردو ادب کے اس قدیم شاہکار کو تاریخِ ادب میں جائز مقام نصیب ہو گا۔زبان و ادب کی تحقیق سے شغف رکھنے والے یقینا اس کاوش پر محقق کے شکر گزار ہوں گے۔

ڈاکٹر گوہر نوشاہی

شفیق انجم
کی دیگر کتب
 

Related Titles