Listed Price: Rs. 120, US $ 9
Our Price: Rs. 75
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 96

Year: 2010

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-10-0

Publisher: Al-Fath Publications

انشا اور تلفظ

رشید حسن خاں

Insha' aur Talaffuz, Rasheed Hassan Khan

لفظ کس طرح لکھا جائے، یہ املا کا مسئلہ ہے۔ جملہ کس طرح لکھا جائے، یہ انشا کا مسئلہ ہے۔ گویا، اِملا اور انشا کا تعلّق لکھنے سے ہے۔ مگر جو کچھ لکھا گیا ہے، اُسے پڑھا بھی جائے گا، یوں تلفّظ بھی اِس عمل کا ضروری حصہ بن جاتا ہے۔ لفظ کا صحیح املا معلوم ہو، یہ ضروری ہے۔ یہ بھی اُسی قدر ضروری ہے کہ اُس لفظ کا صحیح تلفّظ بھی معلوم ہو۔ 

عبارت کی خوبیوں اور خامیوں کا تعلّق بھی انشا سے ہوتا ہے۔ یوں انشا کی اہمیت کچھ کم نہیں۔ انشا وسیع موضوع ہے۔ اِس مختصر سی کتاب میں انشا سے متعلّق ضروری باتوں کو اختصار کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ 

کتاب کے آخر میں اُن تمام الفاظ کا اشاریہ شامل کیا گیا ہے جن سے متعلّق کتاب میں بحث کی گئی ہے۔

 

 


Table of Contents | فہرست

Table of Contents is in PDF Format.

 

 


Preface | دیباچہ

اُردو کے علمی و ادبی حلقوں، خصوصاً دنیاے تحقیق و تدوین میں جناب رشید حسن خاں (۱۹۲۵ء۔ ۲۰۰۶ء) کا نام محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ درجۂ اوّل کے محقق و مدوّن تھے۔ انھوں نے کلاسیکی ادب کی بعض اہم کتابوں کو اتنی توجہ، محنت اور صحت و سلیقے سے مدوّن کیا کہ اُردو میں ان کی تدوینات کو معیار اور مثال بنایا جا سکتا ہے۔ ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات میں اِملا، لغت اور قواعد زبان و بیان بھی شامل تھے۔ انھوں نے اعلیٰ درجے کے تنقیدی مقالات بھی لکھے، جن کے دو مجموعے تفہیم اور تلاش و تعبیر کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ 

اگرچہ انجمن ترقی اُردو کی اصلاحِ املا کمیٹی نے ۱۹۴۴ء میں اُردو اِملا میں اصلاح کے لیے بہت سی تجاویز مرتّب کر دی تھیں، مگر اُردو کے علمی و ادبی حلقوں، خصوصاً اساتذۂ اُردو اور تحقیق کے طلبہ میں صحتِ املا کی اہمیت کوئی ۲۵، ۳۰ برس قبل اُس وقت واضح ہونا شروع ہوئی جب ۱۹۷۴ء میں ترقی اُردو بیورو، نئی دہلی نے رشید حسن خاں کی ضخیم کتاب اُردو اِملا شائع کی۔ چوںکہ یہ کتاب بہت ضخیم تھی اس لیے رشید صاحب نے اس کے مباحث و مطالب کے خلاصے پر مشتمل حسب ذیل مختصر کتابیں بھی شائع کیں:

  1. اُردو کیسے لکھیں (صحیح املا)

  2. املا کیسے لکھیں

  3. عبارت کیسے لکھیں

  4. انشا اور تلفّظ

اوّل الذکر دونوں کتابوں میں بجز نام کی تبدیلی کے، کوئی فرق نہیں۔ بعدازاں، جیسا کہ خاں صاحب نے عبارت کیسے لکھیں کے دیباچے میں بتایا ہے، مصنّف نے اُردو کیسے لکھیں پر نظرثانی کر کے اور بعض ضروری باتوں کا اضافہ کر کے اُسے عبارت کیسے لکھیں کا نام دیا۔ چنانچہ اب املا، انشا اور تلفّظ کے مباحث کے لیے خاں صاحب کی صرف دو کتابوں: (۱) عبارت کیسے لکھیں، (۲) انشا اور تلفظ، کو شائع کرنا اور طلبہ کے لیے اِنھی کا مطالعہ کافی ہے، البتہ تفصیلی مباحث کے لیے ان کی دوسری کتابوں سے رجوع ضروری ہے۔ 

صحتِ املا نسبتاً ایک نیا موضوع ہے اس لیے پاکستان میں کئی ناشرین نے خاں صاحب کی مختصر کتابوں کے غیرقانونی اڈیشن شائع کیے۔ علمی اور تعلیمی حلقوں میں صحتِ املا کا شعور بڑھانے میں ان کتابوں سے بہت مدد ملی۔

یہ وضاحت ضروری ہے کہ رشید حسن خاں کی مرتّبہ: فسانۂ عجائب اور باغ و بہار ادارہ نقوش، لاہور نے مولّف کی اجازت سے شائع کی تھیں۔ خاں صاحب کی باقی تصانیف میں سے املاے غالب اور انشاے غالب ادارہ یادگارِ غالب، کراچی نے شائع کیں۔ مرحوم دوست ڈاکٹر صابر کلوروی نے راقم کی وساطت سے عبارت کیسے لکھیں اور انشا اور تلفّظ شائع کرنے کی اجازت چاہی تو خاں صاحب نے بڑی فراخ دلی سے اجازت دے دی، بلکہ راقم کے نام ایک خط میں اپنی جملہ تصانیف کی اشاعت کے لیے راقم کو مختار بنا دیا۔ ۱۸ اپریل ۲۰۰۴ء کے خط میں لکھا: آپ جن کتابوں کو چھپوانا چاہیں، یعنی آپ کے واسطے سے دوسرے لوگ، مجھے مطلع کر کے چھاپ سکتے ہیں۔ ۸ جون ۲۰۰۵ء کے خط میں لکھا: میں توپہلے ہی سارے حقوق آپ کو دے چکا، اب اس کی تکرار کرتا ہوں اور توثیق کرتا ہوں۔ جس کتاب کو جس طرح جی چاہے، چھپوائیے... پاکستان میں آپ میری ہر کتاب کو اپنی صواب دید کے مطابق چھپوا سکتے ہیں۔

یہ واسطے کی بات خاں صاحب نے اس لیے کی تھی کہ پاکستان میں ان کی مطبوعات صحت کے ساتھ شائع ہوں۔ مثلاً ایک ناشر نے عبارت کیسے لکھیں شائع کرتے ہوئے کتاب کا عنوان اس طرح بدل دیا: اُردو عبارت کیسے لکھیں۔ اس پر خاں صاحب بہت بدمزہ ہوئے۔ لکھتے ہیں: مسعود احمد برکاتی صاحب نے ایک کتاب بھیجی، کتاب میری، نام میرا رکھا ہوا نہیں۔ اُردو عبارت کیسے لکھیں یعنی اُردو کا لفظ بڑھا کر میری جہالت کی نہایت عمدہ مثال فراہم کر دی گئی۔ ... (ناشر)، لاہور نے چھاپی ہے... اتنی بھی خوش اخلاقی نہیں کہ ایک نسخہ ہی بھیج دیں۔

راقم نے خاں صاحب کے تفویض کردہ مذکورہ بالا اختیار کے تحت،مجلس ترقیِ ادب، لاہور کو رشید حسن خاں کی تالیفات شائع کرنے کی اجازت دی تھی۔ مجلس اب تک فسانۂ عجائب، مثنوی گلزار نسیم، مثنوی سحرالبیان اور اُردو املا شائع کر چکی ہے۔ اب اسی اختیار کے تحت راقم کے ایما پر الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی کے مہتمم جناب محمد صفدر ملک، خاں صاحب کی دو مختصر کتابیں (عبارت کیسے لکھیں، انشا اور تلفّظ) شائع کر رہے ہیں۔

مذکورہ کتابوں کی زیرنظر اشاعت کو، اِن کتابوں کے جملہ غیرقانونی اڈیشنوں پر، جو پاکستان میں بلااجازت چھاپے گئے ہیں، اِس اعتبار سے فوقیت حاصل ہے کہ:

اوّل: یہ کتابیں باقاعدہ اجازت لے کر شائع کی جا رہی ہیں، ان کی حیثیت ایک جائز اور قانونی اشاعت کی ہے۔

دوم: انشا اور تلفّظ میں چند ضمنی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور اس کی نشان دہی فہرست میں بھی کر دی گئی ہے، جس سے یہ اندازہ کرنا آسان ہو گا کہ کوئی خاص مبحث کس صفحے پر ملے گا۔ اس کتاب کے کسی سابقہ اڈیشن میں یہ التزام نہیں ملتا۔

سوم: دونوں کتابیں مشینی کتابت (کمپوز کاری) میں شائع کی جا رہی ہیں۔

چہارم: دونوں کتابوں میں اِشاریے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔

اُمید ہے یہ دونوں کتابیں نوجوان اہلِ قلم، اساتذۂ کرام اور تحقیق و تدوین کے طلبہ و طالبات کے لیے علمِ نافع کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔

رفیع الدین ہاشمی

 

 


Index | اشاریہ
Index is in PDF Format.

Related Titles