Listed Price: Rs. 160, US $ 14
Our Price: Rs. 95
Shipment charges will be applied.

How to ORDER?

 

Pages: 128

Year: 2011

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-15-5

Publisher: Al-Fath Publications

سیرِ دریا

مرزا محمد کاظم برلاس    تحقیق: شفیق انجم

Sair e Darya, Shafique Anjum

اُردو کا ایک اہم سفر نامہ، جو اپنے فن اور موضوع کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ سیرِ دریا سری لنکا کی آج سے سو سال پہلے کی ایک ایسی بھرپور ، مکمل اور دیدہ زیب تصویرپیش کر تا ہے جو آج بھی دامنِ دل کھینچتی ہے اور اِسے پڑھ کر زندگی میں ایک بار ضرور سری لنکا کو دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔ سفرنامے کی زبان وہی ہے جو اُس وقت مروّج تھی اور عام بول چال میں اس کا چلن تھا، تاہم اس میں کچھ خوبیاں ایسی بھی ہیں جو ایک طرف تو سفر نامے کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں اور دوسری طرف مرزا کاظم برلاس کی لفظ شناسی اور ذوق کا پتہ دیتی ہیں۔ سیرِ دریا میں سری لنکا کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی بھر پور طریقے سے ملتی ہے۔ مصنف نے سفر نامے میں محض سنی سنائی باتیں بیان نہیں کیں بلکہ صرف وہی کچھ لکھا جو اُن کے مشاہدے میں آیا۔

ڈاکٹر شفیق انجم نے سیرِ دریا کے زمانۂ تصنیف اور مطالب کی تفہیم میں جس عرق ریزی کا مظاہرہ کیا ہے ، ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ ان کی تدوین کے بعد سیرِ دریا اب ایک فراموش شدہ سفر نامہ نہیں رہا بلکہ سفر نامہ نگاری کی تاریخ میں نمایاں جگہ پانے کے قابل ہو گیا ہے۔

 

 


Table of Contents | فہرست

Table of Contents is in PDF Format.

 

 


Preface | مقدمہ

سیرِ دریا اُردو کا ایک اہم سفر نامہ ہے جو اپنے فن اور موضوع کے اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے... قطع نظر اس کے کہ اُردو سفر ناموں کی تاریخ میں اسے بہت کم جگہ دی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سفر نامے کے مصنف مرزا کاظم برلاس کی ادبی دنیا میں شہرت زیادہ نمایاں نہیں تھی جس کے سبب اُردو ادب کا یہ اہم شاہکار تاریخ ادب میں کوئی اہم مقام حاصل نہ کر سکا۔ سفر نامہ ایک ایسی صنفِ ادب ہے جس میں تین عناصر بنیادی حیثیت رکھتے ہیں :متحرک وجود ، متحرک ذہن اور متحرک منظر نامہ۔اُردو کے تمام سفرناموںکی درجہ بندی کی جائے تو اس کی دو نمایاں انواع سامنے آتی ہیں:

ایک وہ سفر نامے جن میں مسافرتی کوائف پہلے سے معلوم حقائق پر مبنی ہوتے ہیں۔ہر ملک کی اپنی رہنمائے مسافرت اور شاہراہوں کے نقشے دستیاب ہیں، ہر بڑے شہر کے گلی کوچوں ، بازاروں اور اہم مقامات کی تفصیل شہر نما کی صورت میں دستیاب ہوتی ہے۔ ہر ملک کی سیاسی ، معاشرتی ،علمی ، ادبی، حتیٰ کہ تفریحی اداروں کے کوائف حاصل کرنا بھی مشکل نہیں ہوتا۔بس سفر نامہ نویس مطلوبہ مواد کو حاصل کر کے سفر نامہ تیار کر لیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر کسی شہر یا ملک کا سفر نہ بھی کیا جائے تو ڈاکٹر وزیر آغا کے ایک انشائیے کے مطابق ریلوے ٹائم ٹیبل کے مطالعے سے چشم تصور بھی ایک سفر نامہ مرتّب کر سکتی ہے۔

دوسری نوعیت کے سفر نامے وہ ہیں جن میں سفر نامہ نگار اپنی پوری شخصیت کے ساتھ سفر میں مبتلا نظر آتا ہے اور اپنے مکمل تجربات کو تحریر کے ذریعے قاری تک پہنچاتا ہے۔ان سفر ناموں میں اس کا وجود ،اس کا ذہن ، اس کے جذبات و احساسات، سب مسافت طے کررہے ہوتے ہیں۔ایسے سفر نامے اعلیٰ ادب کا حصہ بن جاتے ہیں اور دیر تک زندہ رہتے ہیں۔یاد رہے کہ سفر نامے میں تکنیک اور اصول و ضوابط سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ سفر نامہ مصنف کا بنایا ہوا ایک ایسا مرقع اور ایسا جھروکا ہوجس میں قاری مصنف کے زاویۂ نظر کے مطابق چیزوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کر سکے۔ سیرِ دریا کچھ اسی قسم کا سفر نامہ ہے اس لیے اُردو کے عام سفر ناموں سے قدرے مختلف ہے۔ سیرِ دریا سری لنکا کی آج سے سو سال پہلے کی ایک ایسی بھرپور ، مکمل اور دیدہ زیب تصویرپیش کر تا ہے جو آج بھی دامنِ دل کھینچتی ہے اور اسے پڑھ کر زندگی میں ایک بار ضرور سری لنکا کو دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر شفیق انجم نے سیرِ دریا پر بہت محنت سے تحقیقی کام کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اب تک کئی اہم کام کیے ہیں۔ان کا تحقیقی سلیقہ اور پختگی بطور محقق ان کے روشن مستقبل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔سیرِ دریا کے زمانۂ تصنیف اور مطالب کی تفہیم میں انھوں نے جس عرق ریزی کا مظاہرہ کیا ہے ، ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ ان کی تدوین کے بعد سیرِ دریا اب ایک فراموش شدہ سفر نامہ نہیں رہا بلکہ سفر نامہ نگاری کی تاریخ میں نمایاں جگہ پانے کے قابل ہو گیا ہے۔سیرِ دریا کے محاسن میں اس کے ثقافتی ، تمدنی ، معاشرتی اور تاریخی پہلوؤں کی ڈاکٹر شفیق انجم نے جس خوبی سے نشاندہی کی ہے، اس کے لیے اس سفر نامے کے قاری کو محقق کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر گوہر نوشاہی

 

 


Index | اشاریہ

Index is in PDF Format.
شفیق انجم
کی دیگر کتب
 

Related Titles