Price:

Rs. 380

 

US $ 13

Shipment charges will be applied.
 

How to ORDER?

 

Pages: 128

Year: 2018

Binding: Hard

Size: 23"x36"/16

ISBN: 978-969-9400-58-2

Publisher: Al-Fath Publications

سود و زیاں ہے زندگی

(حقیقت یا فسانہ)

عابدہ رحمانی

Sood o Ziyan Hai Zindagi, Abida Rahmani

اللہ تعالی کی بے حد شکر گزار ہوں کہ میری مزید دو کتابیں، افسانے سود و زیاں زندگی اور مضامین قوسِ قزح طباعت کے مراحل میں ہیں۔

میں ہرگز اندازہ نہیں لگاسکتی کہ ان تحاریر میں قارئین کو کتنی دلچسپی ہو سکتی ہے؟ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر مختلف فورم اور اخبارات میں چھپ چکی ہیں اور کچھ موضو عات پرانے ہوچکے ہیں بہر کیف میری طرف سے ایک ادنی سی کوشش ہےکہ یہ مجموعے کی صورت میں چھپ جائیں۔

افسانو ں اور مضامین دونوں میں پاکستان کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا کی جھلکیاں اور وہاں پر رہنے والوں خصوصا مسلمانوں اور تارکین وطن کے مسائل کا مشاہدہ ہو گا۔ پاکستان کے اپنے بے پناہ مسائل ہیں جن میں سر فہرست دہشت گردی ہے ان پر لکھنے کی کوشش کی ہے۔

یہ ان تین ممالک کی داستانیں ہیں جہاں میری بود و باش ہے اور یہاں کے روزمرہ کے حالات کا سامنا اور مشاہدہ ہوتا ہے۔

افسانوں کا ایک عنوان ہے حقیقت یا فسانہ اور ان میں سے کئی کہانیاں حقائق پر مبنی ہیں۔ مضامین تو مجموعی حالات کے عکاس ہیں۔

مضامین اور افسانے مختلف اخبارات اور آنلائن میگزین اور اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں جدہ سعودی عرب کے اردو نیوز میں باقاعدگی سے تحاریر شایع ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان، کینیڈا اور امریکہ کے اکثر اخبارات میں تحاریر شائع ہوجاتی ہیں۔ بیشتر تحاریر کے چھپنے کا علم اپنی کسی دوست کےوساطت سے ہوتا ہے۔ جیسے روزنامہ جسارت کراچی میں جب کوئی تحریر شایع ہوتی ہے تو ایک دوست جو جسارت کی مستقل قاری ہیں مجھے مطلع کرتی ہیں اور یوں میں آنلائن دیکھ لیتی ہوں۔ شمالی امریکہ میں چھپنے والی تحاریر کا بھی اکثر کسی سے علم ہوتا ہے۔ کبھی کبھارایڈیٹر حضرات از راہ مرحمت ای میل سے مطلع کر دیتے ہیں۔

آنلاین اخبارات اور میگزین میں ساؤتھ ایشین پلس رانا عبدالباقی صاحب کے زیر ادارت، بہار اردو فورم جاوید محمود کے زیر ادارت، یونیورسل اردو پوسٹ حسیب اعجاز حاشر،سہیل صدیقی صاحب کے ویب سایٹ اور ہماری ویب پرتحاریر باقاعدگی سے شایع ہوتی رہتی ہیں۔

ان سب میں سر فہرست اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ خواتین کے شعبے کا رسالہ نور ہے۔ اردو انگریزی میں یہ رسالہ نیویارک سے سہ ماہی شایع ہوتا ہے۔ اس معیاری رسالےکے اردو اورانگریزی شماروںمیں میری تحاریر باقاعدگی سے شایع ہوتی ہیں علاوہ ازیں آن لائن گروپس پر باقاعدگی سے تحاریر آتی ہیں۔ان میں ادبی گروپ ادب ڈاٹ کام، گزرگاہ خیال اور علی گڑھ اردو کلب شامل ہیں۔ یہ گروپ اردو کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان آنلائن گروپس یا فورم کے ذریعے اردو داں طبقہ مختلف ہائے خطہ زمین سے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ان میں ناروے، سوئیڈن، ڈنمارک، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بھارت، پاکستان اور دیگر کئی ممالک کےادباء وشعراء کی ایک دوسرے سے شناسائی اور دوستی ہوگئی ہے۔ دیگر آن لائن گروپ میں گلوبل رائٹ پاتھ، سمپل اسلام اور دیگر کئی شامل ہیں۔ اسطرح ایک وسیع و عریض آن لائن کمیونٹی بن گئی ہے۔ ان آن لاین تعلقات اور بھائی چارے میں بسا اوقات اختلافات بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ سائبر یا انٹرنیٹ کی دنیا بھی بس الگ ہی ان دیکھی دنیا ہے۔ ایک طرح سے عالم الغیب ہے۔ جسنے ہمیں مختلف خطوں میں بسنے والے ساتھیوں سے جوڑ رکھا ہے۔ اپنے آنلائن دوستوں میں خوش قسمتی سے دو چار سے بالمشافہ ملا قات بھی ہوئی ہےجو انتہائی مسرت و انبساط کا باعث تھی۔ ای میل گروپس سے بڑھ کر اب سوشل میڈیا آنلاین تعلقات پر حاوی ہوگیا ہے۔ ان میں واٹس ایپ اب فیس بک پر بھی بازی لے گیا تھا۔ ان پر بھی میں کافی متحرک ہوں اور کئی فورمز میں شامل ہوں۔ ان فورمز پر کافی مواد پڑھنے لکھنے اور تبصرے کرنے کیلئے میسر ہے۔ حالانکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ چند چیدہ چیدہ تحاریر دیکھوں۔ اس طریقہ کار نے مجموعی طور پر ہمیں کتاب اور اخبار سے بے نیاز کر دیا ہے اور بیشتر وقت کمپیوٹر ( آئی پیڈ، سمارٹ فون، لیپ ٹاپ) کے سکرین پر گزرتا ہے۔

یہ تحریر نویسی اور اسکی مختلف طریقوں سے پذیرائی میرے لئے ایک ملٹی وٹامن کا درجہ رکھتی ہے ورنہ مالی منفعت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سب سے بڑھ کر اس عمر میں ایک مثبت مشغلہ ہاتھ آگیا ہے حالانکہ آجکل میں نے لکھناقدرے کم کر دیا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ دوبارہ ہمت اور حوصلے سے یہ سلسلہ جڑ جائے۔

عمر کے اس دور میں اللہ تبارک و تعالی کی بے پناہ نعمتوں کا بے حساب شکر ادا کرتی ہوں۔ مزید آزمائشوں سے پناہ، فضل و کرم کی درخواست اور اپنے تمام امور کے لئے حسن خاتمہ کا سوال کرتی ہوں۔ ان دو اشعار کے ساتھ اجازت کی خواستگار ہوں۔

یہ آنکھ کا بادل تو برستا ہی نہیں ہے

 اور عمر کے دریا میں روانی ہے بہت کم

وہ دن جو گزرنے تھے گزر ہی گئے آ خر

اب مہلت گریہ ہے نہ ہے فرصت ماتم

میں اپنے سارے قارئین کے لئے دست بدعا ہوں اللہ تعالی آپ سبکو آسانیاں اور بے پناہ مسرتیں فراہم کرے۔ مجھے بھی آپ سبکی دعاؤں کی ہر دم، ہر لمحہ اشد ضرورت ہے۔

عابدہ رحمانی 

 

Related Titles